بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا اپنے محرم نیز مسلمان عورت اور غیر مسلمہ عورت سے پردے کا حکم

سوال

ایک عورت کا اپنے محرم (شوہر کے علاوہ)بھائی ،باپ وغیرہ سےکتنا پردہ ہے؟اور ایک مسلمان عورت سے بھی؟اور کیا کسی غیر مسلمہ کے سامنے بال ،بازو یا پنڈلی کھول سکتے ہیں؟

جواب

1- عورت کے لیے اپنےمحارم کے سامنے سر،بازو،پنڈلی اورچہرہ کی حدتک کھولنےکی گنجائش ہے،اس سے زیادہ کی نہیں ۔

2-  دوسری مسلمان عورت سے بھی اتنا ہی پردہ ہے جتنا اپنے محارم سے ہے۔

3-  غیرمسلم بلکہ بےپردہ فاحشہ عورتوں سے بھی پردے کا حکم وجوبی تو نہیں، لیکن بہرحال حتی الامکان ان سے احتیاط برتنی چاہیے، اجنبی مردوں کی طرح ان کے سامنے بھی اپنی زینت کے اعضاء ظاہر نہیں کرنے چاہییں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200490
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں