بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جوئے کے پیسے سے خریدے ہوئے گیزر كى استعمال کا حکم

سوال

اگر کسی  کے گھر میں کچھ   سامان  (جیسے گیزر)  اس  کے  والد کی طرف سے ہو، اور وہ  شخص  جانتاہے کہ  وہ  جوئے کے  پیسے خریدا گیا تھا،  کیا یہ شخص اس کا استعمال ترک کردے؟

جواب

مالِ حرام سود،جوا اور رشوت  وغیرہ  کا حکم  یہ  ہے  کہ اس رقم کواصل مالکان معلوم ہونے کی صورت میں حرام طریقہ سے حاصل شدہ  اَشیاء اصل مالکان کو لوٹادی جائیں اوراگراصل مالکان کولوٹانا  ممکن نہ ہوتو  بلانیتِ ثواب  فقراء میں تقسیم کردی جائیں،اس لیے سائل کے گھر میں جوے کے پیسوں کا جوگیزرہے اس کا استعمال سائل کے لیے جائز نہیں۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200489
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں