بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہندو کے ساتھ کھانے پینے کا حکم

سوال

میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ کیا ہم کسی ہندو کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

جواب

کفار کے ساتھ بلا ضرورت اختلاط و ارتباط ممنوع ہے، اورکھانا کھانا بلا ضرورت اختلاط میں داخل ہے، اس لیے اجتناب کرنا بہتر ہے لیکن انسانی رشتہ کی بنیاد پرسا تھ بیٹھ سکتے ہیں،اوراگر ظاہری طور پر کوئی ناپاک چیز یا حرام چیز ہاتھوں پریاکھانے پینے کی چیزوں میں شامل نہ ہو توساتھ بیٹھ کر کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200482
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں