بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے خارجی اسپیکروں کا استعمال

سوال

میراسوال یہ ہےکہ ہمارے یہاں مرکزی جامع مسجد میں سالانہ دومحفل ہوتی ہیں جوفجرتک جاری رہتی ہیں اورفجر کی نمازکےبعدلوگ جاتےہیں کیاایسی محفل میں مسجدکےباہراسپیکر استعمال کرناجائزہے ؟اگراردگردکےلوگوں کوکوئی اعتراض بھی نہ ہو۔اس معاملے میں رہنمائی فرمادیں، یاد رہےکہ ان محفل میں کسی دوسرےمسلک کے خلاف کوئی بات نہیں کی جاتی۔

جواب

مسجدکےباہروالےاسپیکرلوگوں کےلیےپریشانی اورتکلیف کاباعث بنتے ہیں اس لیےاذان کے علاوہ مسجد کے اسپیکروں کی آواز مجمع کے حاضرین کی حد تک رکھی جائے تاکہ باہرجولوگ اپنے کاموں میں یا بوڑھے،بچے،بیمارحضرات کےآرام میں خلل نہ آئے اوران کو تکلیف نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200473
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں