بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر معجل وموٗجل اور اسکی تعیین سے متعلق حکم

سوال

نکاح کے مہر کے سلسلے میں لڑکے اورلڑکی کے ولی کے درمیان یہ طےپاتاہےکہ مہرکی رقم ,00050 ہےاور لڑکے کی مرضی کہ اتنی رقم نقد دے یا اس قیمت کا کوئی تحفہ یعنی زیور وغیرہ۔مزید یہ کہ نکاح اورلڑکی کی رخصتی میں ۳، ۴ ماہ کا وقفہ ہے رہنمائی فرمائیے کہ۱۔ مہر اگر رخصتی کےفورا بعد ادا کیا جائے تو یہ معجل کہلائے گا یا مؤجل؟۲۔ نکاح کے موقع پر ایجاب کےالفاظ میں مہر کی رقم بولنا کافی ہوگا یا اس شے کا نام لینا ضروری ہوگا جو مہر کےطور پر دی جارہی ہے؟

جواب

۔صورت مسئولہ میں رخصتی کے فوراً بعد مہرادا کیا جائے تو یہ معجل (نقد)مہر کہلائے گا۔ 2۔ بوقتِ نکاح مہر کے تعیین کی جائے اگر مہربصورت رقم دی جارہی ہے تو رقم کی مقدار اور نوعیت مثلاً دس ہزار پاکستانی روپے ،واضح کیاجائے اور اشیاء کی صورت میں چیز کو واضح کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200468
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں