بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ختم نبوت کی اہمیت سے متعلق علامہ انورشاہ کشمیریؒ کا قول

سوال

میں نے ایک جگہ پڑھاہےکہ نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ، تبلیغ اورجہاد جیسے فرائض کا تعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال سےہے اورختم نبوت کا تعلق حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک سے ہے، ختم نبوت کی پاسبانی براہ راست ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کے مترادف ہے، مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا قرآن کی آیات یاکسی حدیث سے یہ مفہوم آیا ہے کہ ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت دوسرے اسلام کے فرائض سے افضل ہے؟

جواب

"ختم نبوت کا تعلق ذات اقدس سے ہےاوردیگراحکام الٰہی کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال سے ہے" یہ کوئی قرآنی آیت یاحدیث رسول نہیں ہے،بلکہ حضرت علامہ انورشاہ کشمیری رحمہ اللہ کافرمودہ ہے، اس جملہ سے مقصود ختم نبوت کی اہمیت کو اجاگرکرناہےتاکہ مسلمان عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کو سمجھیں اوراس کی حفاظت کے لیے ذہنی، دینی، معاشرتی اورسیاسی لحاظ سے مستعدرہیں، چونکہ ارکان اسلام میں پہلا رکن توحیدورسالت کااقرارہےاس کے بعد دیگر اعمال قابل اجروثواب ہوتے ہیں اس لیے دیگراعمال کو اس پر موقوف رکھا گیا ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200458
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں