بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپیوٹر اوراس سے متعلق اشیاء کی خریدوفروخت کاحکم

سوال

میں کمپیوٹرہارڈویراورسافٹ ویر کی دکان ڈالنا چاہتاہوں۔ آپ سےدریافت کرناہےکہ کیاکمپیوٹرکی فروخت جائزہےیاناجائز؟اسی طرح اس کے ہارڈوئیرمثلاً کی بورڈ،ماؤس وغیرہ کی فروخت جائزہےیانہیں ؟اورکمپیوٹرسافٹ وئیرکی سی ڈیزمثلاً ونڈوز، ان پیج، ورڈپیڈوغیرہ جوسافٹ وئیرکمپیوٹرمیں استعمال ہوتے ہیں کی سی ڈیز کی فروخت جائزہےیانہیں؟

جواب

کمپیوٹرایک آلہ ہےجس کامفیداورجائزاستعمال بھی ہےاورمضروناجائزبھی جو لوگ مضراورناجائز کاموں کے لیے استعمال کریں گےوہ اپنے فعل کے خود ذمہ دارہوں گے۔ دکاندار کےلیےکمپیوٹراوراس سے متعلق بیان کردہ اشیاء کی خریدوفروخت جائز ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200456
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں