بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کی تقلید اور خواتین کے لیے نماز میں چہرہ چھپانے کا حکم

سوال

1۔ اگرکوئی شخص مستقل طورپرایسی جگہ رہائش اختیارکرلےجہاں أئمہ اربعہ میں سےکسی اورکی تقلید ہوتی ہوتوکیااسےاپنی فقہ چھوڑکروہ اختیارکرلینی چاہئے؟ جیسے شافعی فقہ وغیرہ۔2۔ عورتوں کوسفرمیں کوئی ایسی جگہ میسرنہ ہوجہاں پردے کاصحیح انتظام ہوتوچہرہ ہاتھ اورپاؤں دیکھنےکی صورت میں نمازدرست ہوگی؟

جواب

۔ امام کی تقلید کررہاہےاسی پرکاربندرہے اس کو چھوڑنا جائزنہیں۔ 2۔ چہرے کاچھپانانمازکےلیےکوئی مفسدنہیں، لہذا چہرےکوچھپایا جائے، ہتھیلیاں اورپاؤں کھلےہوں تونمازہوجائیگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 143101200439
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں