بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اذان کا جواب دینے کا حکم

سوال

حضرت میں یہ سوال پوچھنا چاہتاہوں کہ اگرآدمی مسجد میں بیٹھاہواہواور اسی مسجد میں اذان ہوجیساکہ جمعہ کی دوسری اذان یا کوئی اوراذان، توکیااذان کاجواب دینا چاہئے، اور اگر آدمی ایک مسجد میں بیٹھا ہواہواور کسی دوسری مسجد میں اذان ہوتو کیا جواب دیناچاہئے؟

جواب

اذان سننے پر بندہ کودوقسم کے جوابات دینا ہوتے ہیں ایک عملی کہ نماز کےلیے مسجدروانہ ہوجائےجوکہ واجب ہے اوردوسراقولی کہ اذان کے کلمات دہرائے جوکہ مستحب ہے۔ جوشخص مسجد میں پہلے سےموجودہےتوعملی جواب اس کے ذمے ہے ہی نہیں البتہ قولی جواب کااستحباب اب بھی رہیگا، البتہ یہ واضح رہےکہ جمعہ کی دوسری اذان کاجواب قولی نہیں دیاجائےگا، اوراگرمسجد میں بیٹھے ہوئےکسی دوسری مسجد سےاذان کی آواز آئےتواگریہ شخص پہلے کسی اذان کا جواب دےچکا ہےاب دوبارہ کسی اوراذان کاجواب اس کے ذمہ نہیں ہےاس لیےکہ سننےوالےکےذمہ صرف پہلی اذان کاجواب ہےنہ کہ بعد والی اذانوں کا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200437
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں