بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

برانڈی کا بطورعلاج استعمال کا حکم

سوال

آج کل لوگ نزلہ زکام میں بچوں کوبرانڈی پلاتے ہیں اورکچھ لوگ سینےپربرانڈی ملتے ہیں علاج کےطورپر،آپ سےمعلوم کرناہےکہ علاج کے لیےبرانڈی پینایاسینےپرملناجائزہے؟ہومیوپیتھک ادویہ میں بھی کچھ مقدارالکوحل کی شامل کی جاتی ہے، کیاہومیوپیتھک ادویہ لیناجائزہےیاوہ بھی حرام کےزمرے میں آئے گی؟

جواب

برانڈی میں تقریباً 60% فیصد الکوحل شامل ہوتی ہے اوریہ خالص شراب کی ایک اعلیٰ قسم ہے اس لیےجب نزلہ زکام وغیرہ کےعلاج کےلیے دیگرطریقہ علاج موجودہیں توبچوں کوبرانڈی پلانا یاسینےپرلگانا جائزنہیں ہے، اس لیےکہ ناپاک چیزجس طرح استعمال کرنا منع ہے اسی طرح جسم پرلگانا بھی منع ہے۔ جہاں تک ہومیوپیتھک ادویہ کا تعلق ہے تواس میں شامل الکوحل کی قسم نہیں ہے اس لیے ہومیوپیتھک ادویہ کا استعمال جائزہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200426
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں