بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے لیے بیوی کا دودھ پینا

سوال

کیا شوہر کے لیے بیوی کا دودھ پیناجائزہے؟زیادہ نہیں میرا مطلب ہے مباشرت کے دوران، اگرجائزنہیں توکیوں؟ میں نے سنا ہےکہ بیوی کا دودھ شوہرکےلیےجائزنہیں اوراس پر اس کے بچوں کا حق ہے( لیکن جس کے بچے ہی نہ ہوں) یا( بچے بڑے ہوچکے ہوں) تو بھی جائزنہیں، میرا مطلب ہےکہ زندگی میں ایک باربھی نہیں؟

جواب

شوہر کےلیے اپنی بیوی کے پستان چھونے کی طرح منہ میں لینےکی تواجازت ہےبشرطیکہ دودھ نہ آئے اس لیے کےدودھ عورت کےبدن کا جزء ہےاوراجزائے انسانی کا استعمال درست نہیں ہےاگرچہ اس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200425
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں