بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بحالت مجبوری بینک کی ملازمت کا حکم

سوال

یہ پتہ کرنا ہےکہ مجھے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیاہےکہ بےروزگارہوں، کافی کوشش کی لیکن کہیں ملازمت نہیں ملی، اس دوران گذارہ کرنےکےلیے کافی قرض لیناپڑا، اگراس دوران کسی کنونشل بینک مین ملازمت ملنے کےامکانات ہوںتوکیا کرناچاہئے وقتی طورپرکام کرلیناچاہئے ؟ تاکہ مزیدقرض نہ چڑھ جائےاورجوہےوہ اداہوتاجائےاورجیسےہی کوئی اورملازمت ملےبینک کی نوکری چھوڑدوں

جواب

اگرسائل اضطراری کیفیت میں ہو یعنی فقروفاقہ کا شکارہواورکہیں سے قرض ملنے کی امید بھی نہ ہوتوبصورت مجبوری ضرورت کی حدتک اس ملازمت کو اختیارکرسکتاہے، جیسےہی کوئی حلال روزگار میسرآئے بینک کی نوکری چھوڑنالازم ہوگا خواہ ملنے والی حلال آمدنی بینک سے ملنے والے منافع سےکم ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200424
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں