بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خریدے ہوئے مال کو واہس لینے والے دکاندار کی فضیلت

سوال

سوال یہ کرنا ہےکہ بہت ساری دکانوں پریہ لکھاہوتاہے(1)فکسڈپرائس(2) خریداہوامال واپس یاتبدیل نہیں ہوگا۔خریداراوردکاندارکےلیے اس بارے میں کیااحکام، فضائل یا وعیدہے، براہ کرم وضاحت سےقرآن اوراحادیث کی روشنی میں ارشادفرمائیں۔

جواب

فکسڈ پرائس (متعین قیمت) میں توشرعاً کوئی ممانعت نہیں، البتہ یہ لکھنا کہ خریداہوامال واپس یاتبدیل نہیں ہوگا، اسلامی تعلیمات کےمنافی ہے۔ شریعت اس بات کی ترغیب دیتی ہےکہ اگرکوئی شخص سوداکرنےکےبعدکسی وجہ سے اس سودےکومنسوخ کرناچاہےتودکاندارکومنسوخ کردینا چاہئے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے: ترجمہ: جوشرمندہ ہوکرسودا ختم کرنےوالے کےعذرکوقبول کرکےسوداختم کردےتوروزقیامت اللہ رب العزت اس کےگناہوں کو ختم کردیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200416
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں