بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کا نوکری کرنا

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلےکےبارےمیں کہ موجودہ دورمیں لڑکیوں  کے لیے اسکولوں وغیرہ میں نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں؟  اوراگرجائزہےتوکن کن صورتوں میں ؟

جواب

جس خاتون کاباپ ، بھائی، شوہروغیرہ موجود ہوں تو اس خاتون کی تمام تر ضروریات پوری کرنا ان کے ذمہ ہے،  ایسی عورت کے لیے کسی جگہ نوکری اختیارکرنادرست نہیں ہے، لیکن اگرکوئی خاتون ایسی ہےکہ اس کی بنیادی ضروریات کا کوئی بندوبست نہ ہو، کوئی اورکمانےوالا نہ ہو توباپردہ رہتےہوئےغیرمخلوط ماحول میں حسبِ ضرورت نوکری کرنے کی گنجائش ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200404
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں