بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسکول کے قوانین کی خلاف ورزی پر تنخواہ روکنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کےبارے میں کہ بندہ ایک پرائیوٹ اسکول میں پڑھاتاہے جہاں بچوں کومارپیٹ اورتشدد کرنےپرسختی سے پابندی ہے، گزشتہ دنوں ایک استاد صاحب نےایک بچے پرتشددکیا جس پر سکول والوں نے اس استاد صاحب کو سکول سےنکال دیا اوران کی ایک ماہ کی تنخواہ بھی روک دی، اب مسئلہ یہ پوچھنا ہےکہ آیا ان استادصاحب کوسزاکے طورپر اسکول سے نکالنا تو ٹھیک تھا لیکن کیاسزاکےطورپراسکول والوں کو ان کی تنخواہ روکنےاورنہ دینے کا بھی حق ہے ؟مارپیٹ کا جو واقعہ ہوا ہےوہ ایک ماہ پورا ہونے کےبعد ہوا ہے برائے مہربانی مسئلہ سے مطلع فرمائیں۔

جواب

جب استاد نے اپنا مفوضہ کام یعنی تدریس کی ذمہ داری پوری کی ہےتووہ اپنی پوری تنخواہ کا حقدار ہے اسکول قوانین کی خلاف ورزی پر ان کی تنخواہ نہیں روکی جاسکتی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200394
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں