بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تقسیم جائداد

سوال

معلوم یہ کرناہے کہ ہم چاربھائی اورآٹھ بہنیں ہیں والدین کا انتقال ہوگیاہے ایک دکان اورمکان ہے ہمارے پاس جس کی مالیت کو ہم نے سولہ حصوں میں بانٹ لیا ہے، دو دو بھائیوں کےاور ایک ایک بہنوں کے۔ اب اصل مسئلہ یہ ہےکہ دکان جس میں بھائی کام کرتے ہیں اورمکان جس میں ہم رہتےہیں کوئی بھی اسےفروخت کرنا نہیں چاہتا، کیا ایسا ممکن ہےکہ بھائی ہمیں کماکرہماراحصہ دیدیں، اگریہ جائزہےتوسب کے حصےاترجانےکےبعددکان اورمکان کس حصے میں آئیں گے( واضح رہےاس وقت بھائی ہمارااورگھر کا ساراخرچہ اٹھاتےہیں)؟

جواب

صورت مسئولہ میں دکان کے چونکہ تمام ورثاء برابرکے حقداراورحصہ دارہیں اس لیےدکان کی آمدن میں بھی سب کا برابر کاحق ہے، اس لیے اس مشترکہ آمدن سےتقسیم کے بغیرکسی وارث کو حصہ ادا نہیں کیا جاسکتا البتہ کوئی بھائی اگراپنےذاتی حصہ میں آنےوالی آمدن سےباقی ورثاء کا حصہ اداکرناچاہئے توایساکرنا جائزہے تمام ورثاء کو ان کا حصہ دینےکے بعددکان اورمکان اسی کی ملکیت ہوں گے جس نے بقیہ تمام ورثاء کو اپنی ذاتی آمدن میں سے حصہ ادا کیاہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200392
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں