بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھرمیں آئے ہوئے ٹیلی ویژن کا حکم

سوال

میری بیوی اپنےساتھ جہیز میں ایک ٹیلی ویژن لائی تھی جس کواس نے شروع میں استعمال بھی کیا لیکن اب الحمداللہ اس کی سوچ بدل گئی اورتقریباً ڈیڑھ سال قبل اس نےاس کو دیکھنے سے توبہ کرلی اورٹیلی ویژن اب گھرمیں پڑاہواہےاس کےبارےمیں ایک مفتی صاحب سےپڑھاکہ اس کاکیاکیا جائےانہوںبتایاکہ یہ اسی دکاندارکو واپس کردوجس سے خریداہے لیکن معلومات پرپتہ چلاکہ وہ دکاندارپرانی چیزیں نہیں خریدتا اس کے لیے کوئی صورت بتادیں اس کا کیا کیا جائے۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگرسائل مالی طورپراتنا مستحکم ہےکہ ٹی وی توڑدینے کی صورت میں مالی تنگی کا خوف نہیں ہےتواس ٹی وی توڑکرضائع کردیاجائے اوراگرمالی طورپرمستحکم نہیں ہےتو بعض اہلِ علم کی رائےکےمطابق اس ٹی وی کوغیرمسلم کو بیچ سکتےہیں البتہ کسی مسلمان کوبیچنا درست نہیں ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200385
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں