بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امت محمدیہ کے فضائل سے متعلق ایک حدیث کی تحقیق۔

سوال

" ایک دن ایک صاحب نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا" یارسول اللہ! ہم نےآپ کودیکھا، آپ سے بات کی اورآپ کےساتھ کھانا کھایا، کیاہم سے بھی زیادہ خوش نصیب کوئی ہوگااس دنیامیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تم نےمجھے دیکھا اورسناتوایمان لائے، میری آنے والی امت جومجھے بنادیکھے بناسنےمجھ پرایمان لےآئینگے وہ تم سے زیادہ خوش نصیب ہوگی"۔کیا واقعی ایسی کوئی حدیث ہے؟

جواب

اس مفہوم کی حدیث ذخیرہ احادیث میں موجودہے۔ حدیث کا ترجمہ ملاحظہ ہو: حضرت ابوجعمہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ ایک دوپہرہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا،ہمارےساتھ ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نےعرض کیا، یارسول اللہ ! کیاہم سے بھی کوئی بہترہوگا، (جبکہ) ہم ایمان لائےاورآپ کےساتھ جھاد کیا۔ آپ علیہ الصلوٰۃ نے جواب دیاکہ ہاں ایک قوم جوتمہارےبعدآئےگی وہ مجھ پرایمان لائیں گے،حالانکہ انہیوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا(شکوٰۃ المصابیح ص:584) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200379
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں