بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں بلاضرورت سونے کا حکم

سوال

ظہر یاجمعہ کی نمازکے بعد جبکہ کچھ لوگ فرائض اور کچھ نوافل وسنن ادا کررہے ہوں اس دوران مسجد میں سونا جائز ہے؟اگر کوئی شخص مسجد میں سورہاہواورخراٹے لےرہاہوتوکیا وہ گناہگار ہے ؟

جواب

مسجد میں بلا ضرورت سونا مکروہ ہے، خواہ کوئی نماز پڑھ رہا ہو یا نہ پڑھ رہا ہو، اگرنمازی کی نمازمیں خلل کا باعث ہوتو بلا شبہ مسجد میں سونا منع ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص مسافرہواوراس کےلیےکوئی اورجگہ نہ ہویاکسی دینی مصروفیت کےلیےمسجد میں قیام پذیرہو اور وہ ضرورۃً مسجد میں سولے تو مضائقہ نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200361
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں