بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دفناتے وقت مٹی ڈالنے کی دعا باآواز بلند کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام قبرکے پاس ایک شخص کھڑا مٹی ڈالنے کی دعاء با آواز بلند پڑھ رہا تھا اور لوگ مٹی ڈال رہے تھے . جب تک لوگ مٹی ڈالتے رہے وہ مسلسل یہ عمل کرتا رہا، اب اس عمل کا رواج بڑھتا جا رہا ہے، کچھ لوگ اسے اچھا سمجھ رہے ہیں کے جن لوگوں کو دعاء یاد نہیں ہوگی وہ سن کر پڑھ لینگے ، کیا اس طرح کا عمل بدعت نہیں ؟ براۓ مہربانی شریعت مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں قبر پرمٹی ڈالنے کے وقت جودعاء حدیث میں وارد ہوئی ہے اس کا حکم انفرادی طور پر اور آہستہ آواز سے پڑھنے کا ہے اوریہ حکم مٹی ڈالنے والے کے لیے ہے لہٰذا سوال میں ذکر کردہ طریقہ پر قبر پر مٹی ڈالنے کی دعاء پڑھنے سے اجتناب کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200348
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں