بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفر میں توڑے گئے روزے کی قضاء کا حکم

سوال

میں نے آپ پوچھا تھا کہ روزہ میں سفر میں اس ڈر سے کے افطاری ملے گی یا نہیں ایک شخص نے روزہ توڑ دیا تو اس کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص جہاز سے سفر کررہاتھا اوروہ روزہ سے تھا لیکن جب اسے کھانے کو پوچھا تواس نےاس ڈر سے کہ افطاری کے ٹائم کھانا ملے یا نہ اس نے اس ڈر سے روزہ توڑ دیا،جبکہ جہاز میں افطاری کے وقت بھی کھانا پیش ہوا تو اب ایسے روزے کا کیا حکم ہے؟میں نے آپ کے دارالافتاء کے ایک مفتی سے پوچھا تھا تو انہوں نے بتایا کہ ایسی صورت میں کفارہ اور قضا دونوں ہیں کیونکہ یہ کوئی ایسا عذرِ شرعی نہیں ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر سفر شروع ہوچکا تھا اور اس کے بعد روزہ توڑ دیا تو ایسی صورت میں اس روزے کی صرف قضاء ہے کفارہ نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200343
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں