بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم کے ساتھ کھانا کھانے کا حکم

سوال

ہم لوگ یہاں سعودی عرب میں جس کمپنی میں کام کرتے ہیں وہاں غیر مسلم ہندو اور عیسائی بھی کام کرتے ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ غیر مسلم کے ساتھ کھانا پینا کیسا ہے؟بعض کہتے ہیں کہ حرام ہے، جب کہ بعض کہتے ہیں مکروہ ہے خاص طور پر ہندو کے ساتھ کھانا پینا کیسا ہے؟

جواب

غیر مسلم بھی انسان ہیں جب ہاتھ اور منہ پر ظاہری نجاست نہ لگی ہو تو ان کے ساتھ کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں خواہ وہ غیر مسلم ہندو ہو یا عیسائی یا کچھ اور. البتہ ایسا اختلاط جس سے دینی حمیت ختم ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر ایسے کفار سے میل جول رکھنے اور ان کے ساتھ کھانے پینے سے احتیاط بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200340
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں