بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد کے لیے عورت کے سلام کا جواب دینا

سوال

کیا عورت اگر خود سلام کرے مرد کو تو کیا مرد کو خواہ وہ محرم ہو یا غیر محرم ہو جواب دینا چاہیے یا نہیں؟ اسی طرح سے اگر عورت کو چھینک آئے تو کیا مرد اس کا جواب بلند آواز سے دے یا آہستہ آواز سے  دے یا دے ہی نہیں؟  نیز گھر کے اندر پردے کا اہتمام کس طرح کرایا جائے؟  نیز غیر محرم عورت سے کسی وجہ کے تحت بات کرنا صحیح ہے، مثلاً لیڈی ڈاکٹر وغیرہ؟ 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں نامحرم جوان عورتوں کو سلام نہیں کرنا چاہیے، اور اگر نامحرم عورت خود سلام کرے تو دل ہی دل میں جواب دے دے، زبان سے جواب نہ دے۔ اور اگر بوڑھی عورت ہو تو زبان سے بھی جواب دے سکتے ہیں۔ نیز یہی حکم چھینک کے جواب کا بھی ہے کہ  اگر نامحرم عورت کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو اس کا جواب بھی دل ہی دل میں دے دے ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"رد السلام واجب إلا ... شابة یخشیٰ بها افتتان". (الشامیة:۱۸۱۶ ۔ ط: سعید کراچی )

باقی نامحرم اجنبیہ عورت سے بوقتِ ضرورت ، بقدرِ ضرورت بات کرنے کی اجازت ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200338
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں