بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا حکم

سوال

آج کل بچے کی پیدائش بعد ڈاکٹر انہیں کچھ قطرے پلاتے ہیں تاکہ بچے مختلف بیماریوں مثلا زیابطیس، پولیو، ٹی بی، وغیرہ سے سے محفوظ رہے، ان قطروں کا سلسلہ 5سے7 سال کی عمر تک جاری رہتا ہےمیں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اس طرح کےقطرے مسلمانوں کے لئے حلال ہیں یا حرام اور کیا ہم اپنے بچوں کو پلاسکتے ہیں یا ہیں ، براہ کرم وضاحت کےساتھ جواب دیں۔

جواب

پو لیو وغیرہ مختلف قسم کی بیماریوں سے تحفظ کے لئے بچوں کو قطرے پلانا جائزہے۔ تاہم پولیو کے قطروں کے بارے میں بعض حضرات شکوک و شبھات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ان قطروں کو پینے سے افزائش نسل پر اثر پڑتا ہے۔ اگر ان کی یہ تحقیق درست ہے ، تو پھر قطرے پلانے سے پرہیز کرنا چاہئیے فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200330
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں