بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گٹکا اور اس جیسی اشیاء کے کھانے کا حکم

سوال

مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ یہ جوآج کل مختلف قسم کے گٹکے وغیرہ کھانے کا رواج ہےاس کا کیا حکم ہے ؟اوراس کو چھوڑنے کا کوئی ورد یا کوئی اورحل بتادیجئے۔

جواب

مذکورہ اشیاء میں ایسا نشہ نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے عقل مغلوب ہو جائے اس لیے اسے نشہ آور تو نہیں کہا جا سکتا البتہ اس قسم کی اشیاء چونکہ صحت کے لیے مضر ہیں اس لیے طبی نقطہ نگاہ سے ان پرہیز کیا جائے ،جیساکہ فتاویٰ شامی میں ہے : ص:46،ج:6،ط:ایچ ایم سعیدکراچی۔ ص:208،ج:3،ط:ایچ ایم سعید کراچی فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200329
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں