بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زیر ناف بالوں کے کاٹنے کا حکم

سوال

زیر ناف بالوں کے کاٹنے کا حکم کیا ہے؟کیا دُبر کے بال کاٹنا بھی لازمی ہے؟

جواب

زیر ناف بالوں کاٹنا واجب اور ضروری ہے اور ہر جمعہ کو اس کی صفائی کرنا مستحب ہے، چالیس دن تک یا اس سے زائد بلاوجہ چھوڑنا مکروہ تحریمی ہے، اس کی حد مثانہ کے نیچے پیڑوکی ہڈی سے لیکر شرم گاہ اور اس کے آس پاس کا حصہ۔ اسی طرح پاخانہ کے مقام کا آس پاس کاحصہ اور رانوں کا وہ حصہ جہاں نجاست ٹھہرنے یا لگنے کا خطرہ ہو ،یہ تمام بال کاٹنے کی حد ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200326
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں