بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر ملکی موبائل کمپنی کی سروس استعمال کرنے کا حکم

سوال

آپ سے سوال یہ ہے کہ میں ایک غیر ملکی موبائل سروس استعمال کر رہا ہوں جس کا تعلق ناروے اور ڈینمارک سے ہے اور جس کا مالک شاید یہودی ہے۔ڈینمارک وہی خبیث ملک ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی ہوئی۔کیا میں ان لوگوں کی سروس کا استعمال جاری رکھوں یا یہودیوں کی کوئی بھی ٹیکنالوجی ہمارے لیے جائز نہیں ۔ حالانکہ ہمارے کیا پوری دنیا میں یہودیوں کی ایجاد کردہ ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے۔ برائے مہر بانی جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ غیر ملکی موبائل کمپنی کی سروس استعمال کرنا فی نفسہ جائز ہے ، البتہ دینی غیرت کے خلاف ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ کوئی اور کمپنی کی سروس کو استعمال کریں۔ نیز ہر معاملہ میں دشمنانِ اسلام کی ایجاد کردہ چیزوں سے جتنا بچنا ممکن ہو اتنا بچنا چاہیئے ۔ البتہ شرعاً استعمال کی اجازت ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200321
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں