بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کاروبار میں شراکت کا حکم

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک دوست کے ساتھ 50 50فیصد پارٹنر شپ پر کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں۔میرادوست50 فیصد شامل کرے گا کاروبارمیں اورباقی 50 میں۔میرادوست جو روپے انویسٹ کرے گا کاروبارمیں۔ ہوسکتا ہے وہ حلال نہ ہوں توکیا ایسی صورت میں میرا 50حصہ بھی حرام ہوجائے گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب تک یقین کے ساتھ معلوم نہ ہو کہ پیسہ لگانے والے شریک کا پیسہ حلال نہیں ہے تب تک بدگمانی نہیں رکھنی چاہیے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے کسی کے متعلق بدگمانی کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ اوراگر اس شریک کا پیسہ مشکو ک ہے تواس کے ساتھ شراکت میں احتیاط برتنی چاہیے ۔ اور اگر یہ بات یقینی طور پرمعلوم ہو کہ شریک کا پیسہ ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ ہے تو ایسی صورت میں اس کے ساتھ شرکت کرنا جائز نہیں ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200319
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں