بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رخصتی سے قبل میاں بیوی کا آپس میں ملنا

سوال

مجھے یہ مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ میرا نکاح جمعة الوداع 18 ستمبر 2009 کو ہوا تھا مگر لڑکی کے والد اورلڑکی کے گھروالوں کی طرف سے ملنے میں سختی ہے۔مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ میرا شرعی حق کیا بنتا ہے ؟کیا وہ اب تک میرے لیے نامحرم ہے اور میرے اس پر کیا حقوق بنتے ہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں نکاح ہوا ہے تو اب دونوں ایک دوسرے کے لیے غیر محرم نہیں رہے البتہ رخصتی سے قبل ایک دوسرے سے ملنا اخلاقاً اور معاشرةً ناپسندیدہ عمل ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا نکاح حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے 6 سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی 9 سال کی عمر میں ہوئی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رخصتی سے قبل اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اسی کوچےگلی سے ہوتا جس میں، میں موجود ہوتی تو میں وہاں سے چھپ جاتی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200315
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں