بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مردوں کے لیے گھڑی میں شامل سونا پہننے کا حکم

سوال

کیا مرد حضرات وہ گھڑیاں پہن سکتے ہیں جن پر 22 قیراط کا سونا لگا ہوا ہوتا ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر گھڑی کا اکثر حصہ پرزے، ڈائل، چین سونے کا بنا ہے تو ایسی صورت میں مرد کے لیے گھڑی کا پہننا جائز نہیں اگراکثر حصہ سونا، چاند کے علاوہ کسی اور دھات کا ہے تو پہن سکتے ہیں۔ ویسے عام دستیاب گھڑیوں پر 22 قیراط سونا لکھا ہوتا ہے تو اس کے کچھ مخصوص پرزے اس کے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ یا اس کو 22 قیراط سونے کا پانی دیا ہوتا ہے جس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200314
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں