بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو خالہ یا بہن کہنا

سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بہن، خالہ وغیرہ سے کبھی پکارے تو کیا نکاح ختم ہوجاتا ہے اور اس کا کوئی کفارہ ہے ؟اس کے لیے کیا کرنا چاہئے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اپنی بیوی کو بہن ، خالہ وغیرہ سے پکارنا ناپسندیدہ ہے ، اس سے احتراز کیا جائے البتہ بیوی کو بہن،خالہ پکارنے سے نکاح پرکوئی اثر نہیں پڑتا۔ دونوں کا نکاح قائم رہتا ہے اور اس کا کوئی کفارہ نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200310
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں