بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماں کے پیٹ میں بچے کی جنس معلوم کرنے کا حکم

سوال

جیسا کہ ان دنوں سائنس کی ترقی کی وجھ سے لوگ اپنے بچے کی جنس پیدائش سے کافی پہلے دریافت کر سکتے ہیں۔ اگرایسا تجسس کی وجہ سے کیا جائے تو کیسا ہے کیا ایسا کرنا درست ہوگا ؟

جواب

صورت مسئولہ میں بچے کی جنس معلوم کرنے کے لیے جستجو پسندیدہ عمل نہیں ۔بچے کی جنس جو بھی ہو وہ دنیا میں آتا ہی رہے گا اور اگر جنس معلوم کرنے کے لیے ستر کھولنا پڑے تو یہ ناجائز عمل ہے ،اس مقصد کے لیے ستر کھولنا کہ آلہ رکھ کر جنس معلوم کی جائے یہ جائز عمل نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200301
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں