بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جسم کے فالتوبالوں کا حکم

سوال

میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ ہمارے جسم کے کن کن جگہ کے بال کاٹنے کا حکم ہے ؟تھوڑی وضاحت سے بتائیں ۔

جواب

صورت مسئولہ میں انسانی جسم میں جن بالوں کے کاٹنے کا حکم شریعت نے دیا ہے وہ یہ ہے ۔ 1۔مونچھوں کے بال اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ ان کو اس قدر تراشاجائے کہ لبوں پر نہ آئیں اگر اس قدر مبالغہ کیا ھائے کہ مونچھیں بالکل کٹی ہوئی محسوس ہوں تو یہ بہتر ہے اور بالکل استرے سے صاف بھی کرسکتے ہیں ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : خالفواالمشرکین ،واخفوا الشوارب وافواللحیٰ ۔ مشکوٰۃ المصابیح ،ص:380 ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کی مخالفت کیا کرو مونچھوں کو اچھی طرح تراشو اور داڑھی خوب بڑھاؤ۔ 2۔بغل کے بال ان کے متعلق حکم یہ ہے کہ ان کو نوچا جائے اگر کسی کو نوچنے میں دشواری ہو توپھر کاٹا جائے۔ 3۔زیرِ ناف بال کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ عورت کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ کسی کریم وغیرہ کولگاکر صاف کریں اور مردوں کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ استرے یاریزرسے صاف کریں اگر مرد کریم اور عورت استراء استعمال کرے تو بھی جائزہے ۔ بغل اورزیرناف بال کی مدت یہ ہے کہ بہتر یہ ہے کہ ہر ہفتہ میں ان کو کاٹا جائے اور یہ صفائی کرنا افضل ہے اگر ہفتہ میں موقع نہ ملے تو پندرہوئے دن اس کی صفائی کریں ،چالیس دن سے زیادہ چھوڑنا گناہ ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200298
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں