بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر اجازت والد کے مال کو استعمال کرنا

سوال

اگر کوئی شخص اپنے والد کی حیات میں اسکے کاروبار میں سے بغیر اسکی اجازت کے پیسے لیتا ہو اور والد کو معلوم بھی نہ ہو اور پھر والد کا انتقال ہو جائے اور اس شخص کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئیے؟

جواب

مذکورہ بالا صورت میں سب سے پہلے توبہ استغفار کرنا چاہئیے۔ جتنا مال بغیر اجازت لیا تھا، مکمل حساب لگاکے اتنا مال اب اپنے والد صاحب کے ترکہ میں ڈالدیں کیونکہ اب اس مال پر تمام ورثاء کا حق ہے۔۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200293
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں