چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی نوکری کا حکم
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ کیا چارٹرڈ اکاونٹینٹ کی نوکری اس حدیث کے زمرے میں تو نہیں آتی جس میں آکل الربا وموکلہ و کاتبہ و شاھدیہ کی وعید آئی ہے؟
جواب
چارٹرڈاکاؤنٹنٹ کی نوکری چونکہ سودی لین دین کے علاوہ دیگرمالیاتی شعبوں میں بھی ہوسکتی ہےاس لیے جب تک وہ سودی لین دین کے معاملات سے وابستہ نہ ہواس وقت تک وہ اس وعید کے زمرے میں نہیں آتا۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143101200283
تاریخ01-01-2010

