بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی نوکری کا حکم

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کیا چارٹرڈ اکاونٹینٹ کی نوکری اس حدیث کے زمرے میں تو نہیں آتی جس میں آکل الربا وموکلہ و کاتبہ و شاھدیہ کی وعید آئی ہے؟

جواب

چارٹرڈاکاؤنٹنٹ کی نوکری چونکہ سودی لین دین کے علاوہ دیگرمالیاتی شعبوں میں بھی ہوسکتی ہےاس لیے جب تک وہ سودی لین دین کے معاملات سے وابستہ نہ ہواس وقت تک وہ اس وعید کے زمرے میں نہیں آتا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200283
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں