بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک کے ساتھ معاملہ کرنا

سوال

میزان بنک سے معاملہ کرنا حلال ہے یا حرام؟اگر حرام ہے تو پاکستان میں وہ کونسا بنک ہے جسکے ساتھ لین دین حلال ہے؟

جواب

ہمارے علم کے مطابق اس وقت کوئی بھی بنک ایسا نہیں جو مکمل اسلامی اصولوں کے تحت معاملات کرتا ہوں۔کسی نہ کسی حد تک غیر شرعی شرائط تمام بنکوں کے معاملات میں پائی جاتی ہیں۔ لہذا کسی بھی بنک سے تجارت کی نیت سے معاملہ نہ کیا جائے۔۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200278
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں