بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قسم کاکفارہ

سوال

اگر کوئی شخص گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوجائے اور پھر اس پر نادم ہوکر قسم کھائے اور سچے دل سے توبہ کرلے پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ وہی گناہ کر بیٹھے اور اللہ سے معافی کا طلبگار ہو تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

اگر گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے کسی بندے کا حق ضائع نہیں ہواہےاور اس گناہ سے وہ سچے دل سے توبہ کرلیتا ہے تواللہ تعالیٰ معاف کردیتے ہیں۔ آپ ﷺ کا ارشادہے کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ ہی نہ کیا ہو۔ چونکہ گناہ نہ کرنے کاحلف اٹھایا تھا اس کے بعد گناہ کا ارتکاب کرکے حلف کی خلاف ورزی کی ہے اب اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو صبح شام دووقت کا کھانا کھلائیں۔ اس کی استطاعت نہیں تو مسلسل تین دن روزے رکھیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200267
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں