بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرعی طورپرقسم کا انعقاد

سوال

میراسوال یہ ہےکہ اگرکوئی شخص دل ہی دل میں قسم کھائےکہ میں آئندہ یہ کام نہیں کروں گالیکن بعد میں وہ کام کرلےتوکیا پھربھی اسےاپنی قسم کاکفارہ ادا کرناپڑےگا، جبکہ اس کی اس قسم کا کسی کو علم نہیں اوراگراس نےبےشمارباراپنےسے کی گئی قسمیں توڑی ہوں کہ اسےیادبھی نہ ہوتواس صورت میں کیا کرناپڑےگا؟

جواب

اگرقسم کےالفاظ زبان سےادا نہیں کیےصرف دل ہی دل میں ارادہ کیاتوقسم منعقدنہیں ہوئی لہٰذااس کے خلاف کرنےپرکوئی کفارہ بھی لازم نہیں ہوگا اوراگرزبان سےادائیگی بھی ہوئی ہوتوپھربہتریہی ہےکہ اندازہ کرکے غالب گمان کے مطابق تمام قسموں کا الگ الگ کفارہ دیاجائے اوراگراندازہ نہ ہوسکتاہو اورمتعدد قسمیںتوڑی گئی ہوں توپھرسب قسموں کی طرف سےایک ہی کفارہ بھی کافی ہوجائےگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200266
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں