بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کی دھمکی

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ایک بار میرے سسرال والوں نے کچھ ایسی بات کردی تھی جس کی وجہ سے میں نے سخت اشتعال میں آکے یہ الفاظ کہے تھے کہ اگر میری بیوی اپنی دادی کے گھر یعنی کہ میرے سسرال جائے گی تو مجھ سے طلاق لے کے جائے گی یہ الفاظ کہتے وقت میری ذہن میں صرف ایک طلاق دینے کی ہی تصور تھا ، بعد میں میں اپنے اس حرکت پہ سخت شرمندہ ہوا اور پریشان بھی، میری بیوی ابھی تک اپنی دادی کے گھر نہیں گئی ہے لیکن ظاہر ہے کسی نہ کسی موقع پر اس کو جانے کی ضرورت پڑے گی، اور میں اپنی حرکت اور اپنی کہے ہوئے الفا ظ واپس لینا چاہتا ہوں، میں اسی مسئلے سے ملتا جلتا مسئلہ آپ کی ویب سائٹ پر دیکھ چکا ہوں جس میں آپ نے یہی فرمایا ہے کہ کہ شرط واقع ہونے سے پہلے واپس لی جاسکتی ہے ، کیا آپ مجھے تفصیلا بتا سکتے ہیں کہ مجھے کیا کیا الفاظ ادا کرنے ہوں گے شرط واپس لینے کے لئے۔ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں تہ دل سے پیشمان ہوں اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ آئندہ مجھے اپنے غصے پر قابو رھے اور ایسی غلطی دوبارہ سرزد نہ ہو، آمین

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ الفاظ شرط نہیں ہے بلکہ دھمکی ہے لہٰذا اگر آپ کی بیوی اپنی دادی کے گھر جائے گی تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200260
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں