بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تاوان کی تشریح اور کسی شے کے گم ہو جانے پر تاوان کا مطالبہ کرنا۔

سوال

لفظ تاوان کی تشریح کردیں۔اگرکوئی چیزجوکہ حفاظت سے رکھی ہوئی ہوپھربھی چوری ہوجائےتوکیااس کےازالہ کا مطالبہ تاوان کے زمرہ میں آتاہے؟۔ اگروہ چیزواپس مل جائےجبکہ اس کی رقم بھی ادا کردی گئی ہوتوشرعاً وہ رقم واپس کرنا ہوگی کہ نہیں؟

جواب

کسی قابلِ ضمان چیزکے جان بوجھ کرضائع کردینے پرنقصان کےازالہ کےلیے جورقم دی جائے یاجس کا مطالبہ کیا جائے یہ تاوان کہلاتاہے۔ ۔ اپنی طرف سے پوری حفاظت کےباوجوداگرکسی کی کوئی چیزکھوجائےیا ضائع ہوجائے اس کا تاوان لازم نہیں آتا، اگراس نقصان کےازالہ کا مطالبہ کیا جائےتویہ بھی تاوان کہلائے گاجو شرعاً درست نہیں۔ ۔ کھوئی ہوئی چیز کےواپس مل جانےپراس کےتاوان کی مدمیں وصول کی گئی رقم کی واپسی ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200243
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں