بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ کے ذریعے کاروبار کرنا۔

سوال

میراسوال یہ ہےکہ آج کل جویہ کاروبار چل نکلاہے کہ پرائزبانڈ کے ذریعہ سے پیسا کمانا اوران کی پوری پوری سیریز خرید لینا تاکہ انعام نکل سکے، علماء دیوبند کا اس سلسلہ میں کیا فتویٰ ہے؟

جواب

پرائزبونڈ کے ذریعہ پیسے کمانا اوراس کو کاروبارکاذریعہ بنانا شرعاً جائزنہیں ہے بلکہ سوداورجوئے کے زمرہ میں داخل ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200242
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں