بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سے کمائی ہوئی رقم سے حج یا عمرہ ادا کرنا

سوال

سوال یہ پوچھنا ہے کہ بینک میں نوکری کرنے والا حج یا عمرہ پر جائے تو اسکا حج یا عمرہ ہو جائے گا یا نہیں؟

جواب

بینک سے کمائی ہوئی رقم سے حج کرے یا عمرہ اداء کرے تو ادائیگی ہوجائے گی البتہ اس پر ثواب نہیں ملے گا کیونکہ بینک ایک سودی ادارہ ہے اسی سودی ادارے میں ملازم سودی معاملات میں تعاون کرتا ہے جوحرام ہے اورسودی آمدنی سے تنخواہ دیجاتی ہے تو وہ بھی حرام ہے

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200238
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں