بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک ملازم کی آمدنی کاحکم

سوال

میرے ابو بینک میں نوکری کرتے ہیں، میں اسلامیہ یونیورسٹی بھاولپورمیں بی ایس سی کا طالب علم ہوں ۔کیامیں اپنے والد صاحب کی رقم استعمال کرسکتا ہوں ؟میراکوئی اور ذریعۂ معاش بھی نہیں ہے ،کیا میں دینی تعلیم حاصل کرسکتا ہوں؟ جبکہ میرے والدین اس کوپسند نہیں کرتے

جواب

صورت مسؤلہ میں بینک ایک سودی ادارہ ہے اورسود کی آ مدنی سے ملازم کو تنخواہ دی جاتی ہے جو ناجائز ہے اس لیے اس آمدنی کا استعمال سائل کے لیے جائز نہیں۔ بقدر ضرورت علم دین کا حصول ہر مسلمان پرفرض ہے بحیثیت مسلمان والدین کو اس پر خوش ہونا چاہیے کہ بچہ علم دین حاصل کرنے میں شوق ورغبت رکھ رہاہے،سائل علم دین حاصل کرنے میں لگ سکتاہے بلکہ بہتر ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200237
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں