بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معلق طلاق کا حکم

سوال

زمین کے کچھ حصے پردوفریق کا جھگڑاچل رہاہےکیس عدالت میں ہے،طوالت بیزارہوکردونوںفریق نے جرگہ بٹھایا، جرگے میں دونوںفریق کے دودوجرگےدارمقررہوئے،جرگےداروں نے فریقین کے دو دولوگوں کو بلایا،فریقین کی طرف سے جو لوگ مقررہوئےان لوگوں نے اپنے اپنے فریق کے سب لوگوں کی طرف سےذمہ داری لے کرجرگے داروں کےسامنے طلاق کے تین پتھرپھینکےاورحلف اٹھایاکہ اگرجرگےکے فیصلےپرعمل نہیں کیاگیاتوبمع فریق کے ان کی طلاق ہے۔ حلف اورطلاق کے بعد جرگےنے فیصلہ باہم کرلیا، لیکن فیصلہ سنانے سے قبل ایک فریق کےجرگے دارنے فیصلہ لیک آؤٹ کیااس کے بعدجس فریق کے جرگےدارنےفیصلہ لیک آؤٹ کیا تھااس فریق نے فیصلے پربیٹھنےسے انکار کردیا۔عرض یہ ہے کہ دونوں فریق نے جب جرگےکے فیصلےپرعمل کرنے کے لیے طلاق کے پتھر پھینکے،حلف اٹھایااس کے بعداپنے حق پرفیصلہ نہ پاکرفیصلے پرصبراوراعتمادنہیں کرتاہے تواس فریق کے سب لوگوں کوطلاق ہوجاتی ہےیا جس نے طلاق کے پتھرپھینکے ہیں اس کی ہوجاتی ہےیاپھرکسی کی بھی طلاق واقع نہیں ہوئی؟

جواب

دونوں فریق نے طلاق کو معلق کیا ہےجرگہ کا فیصلہ نہ ماننےسے چونکہ فیصلہ جرگے نے سنایانہیں تونہ ماننے کی نوبت نہیں آئی اس لیے کسی کی بیوی پر ابھی تک طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200215
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں