بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق واقع ہوگئی

سوال

ایک ماہ پہلے گھرمیں کسی بات پرجھگڑا ہوا، میں نےغصے کی حالت میں بیوی سے کہاکہ اگرمیری اجازت کے بغیرگھرسےنکل گئیں توتم کو3 طلاق ہوگی۔ کچھ دنوں بعدمیری والدہ نے میری اجازت کے بغیرکہیں بھیج دیا۔دوسری بات یہ کہ اگرمیرابہنوئی ہمارے گھرآگیاتوتم کو 3طلاق ہوگی۔بہنوئی ابھی تک نہیں آیا۔ اب اس کے جانے سے طلاق ہوگئی ؟اگرہوگئی توکتنی ؟اگربہنوئی آگیا توکیاطلاق ہوگی ؟اگرمیں شرط واپس لے لوں۔ برائے کرم تفصیل سے جواب دیں۔

جواب

سائل کی اہلیہ پہلی مرتبہ جب سائل کی اجازت کےبغیرگھرسے نکل گئی تھی تواسی وقت اس پرتین طلاق واقع ہوچکی ہیں۔ سائل کی بیوی اس پرحرام ہوچکی ہے۔ اب رجوع یادوبارہ نکاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ الایہ کہ وہ عورت اپنی مرضی سےکہیں اورشادی کرلے اوردوسرے شوہرسےوفات یاطلاق کی صورت میں علیحدگی ہوجائےاورعدت کے بعددوبارہ سائل کےنکاح میں اجنبی عورت کے طورپرآناچاہےتواس کی گنجائش ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ شوہراگرایک بارطلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کردے توپھراس کوواپس لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200212
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں