بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چارمرتبہ طلاق دینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں اس مسئلے کےبارے میں مقدرخان نے اپنی بیوی سعیدہ نازکواپنی دوبالغ بیٹیوں اورسالی کے روبرچارمرتبہ یہ الفاظ کہے تجھےطلاق ہے اس واقعہ کےبعد سعیدہ ناز اپنی بیٹیوں سمیت بھائی کےگھرچلی گئی ، شریعتِ اسلامی کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہوگئی ہے؟اورسعیدہ ناز اوراس کی بیٹیوں کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مذکورہ کے مطابق مسماۃ سعیدہ ناز کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اورمسماۃ سعیدہ نازاپنےشوہرمقدرخان پرحرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، مطلقہ اپنے شوہرکے گھرعدت، تین ماہواری گذارکردوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200210
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں