بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دل میں طلاق کا سوچنا

سوال

میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ اگرکوئی دل میں یہ سوچے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے یابارباراس قسم کا خدشہ ذہن میں آئےتواس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

جب تک زبانی یا تحریری طورپرطلاق نہ دی جائے صرف اس طرح سوچنے سےطلاق واقع نہیں ہوتی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200209
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں