بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ابلے ہوے پانی میں سالم مرغی کو ڈالنے کا حکم

سوال

مرغی ذبح کرکےانتڑیاں نکالے بغیراگرابلے ہوئے پانی میں ڈالی جائےپرصاف کرنے کی غرض سےتوکیا مرغی کاگوشت مکروہ ہوجاتاہے، کیونکہ پانی ابلاہوا ہوتاہےاورنجاست مرغی کےاندرموجودہوتی ہے؟

جواب

اگرپانی اس قدرگرم ہےکہ اس میں کوئی شخص ہاتھ نہ ڈال سکتاہوتواس صورت میں مرغی کے اندرکی نجاست مرغی کے گوشت میں سرایت کرجانےکا غالب امکان ہوتوایسی مرغی کا استعمال ناجائز ہے لیکن اگرپانی معمولی گرم ہے، ماہرین کےمطابق تقریباً 52 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہواوردوڈھائی منٹ سے زیادہ مرغی کو اس میں نہ رکھاجاتاہوتواس کی اجازت ہےایسی صورت میں اس مرغی کااستعمال بلاکراہت جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200180
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں