بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مردوں کابلاعذرعورتوں کی طرف سے رمی کرنے کا حکم

سوال

حج میں کچھ عورتوں نے تینوں دن رمی نہیں کی، ان کے مردوں نے ان کی طرف سے اداء کی، کیا ان عورتوں کی طرف سے ادا ہوگئی؟ اگرنہیں تو دم واجب ہوگا ؟ اورکتنا واجب ہوگا ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگرمذکورہ عورتیں بوقت رمی معذور نہیں تھیں کہ خودہی رمی کرسکتی تھیں۔اس کے باوجوددوسروں نے ان کی طرف سے رمی کی تو ایسی صورت میں ان کی رمی اداء نہیں ہوئی ،ان پر دم واجب ہے ۔ حدودحرم میں ہر ایک اپنی طرف سے ایک بکری بطور دم اداء کریں ،فتاویٰ عالمگیری میں ہے : ولوترک الجمار کلھا اٴو رمی واحدة اٴو جمرة العقبة یوم الفخر فعلیہ شاة ۔ص:247۔ج1،ط،رشیدیہ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200167
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں