بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں کان میں پانی ڈالنے کا حکم

سوال

ہمارے احناف کی عربی اوراردو میں فقہ اورفتاویٰ کی کون سی کتابوں میں لکھا ہواہے کہ کان میں پانی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ؟

جواب

صورت مسئولہ میں کان میں پانی خودبخود داخل ہوجانے سے صحیح روایت کے مطابق روزہ فاسد نہیں ہوتاہے البتہ قصداً پانی ڈالنے کی صورت میں احتیاطاً ایک روزہ قضاء کرلینا بہتر ہے ۔ حوالہ جات :فتاویٰ شامی ،ج2،ص396 ۔فتاویٰ عالمگیری ،ج2،ص204۔فتاویٰ تاتارخانیہ،ج2،ص،364۔ عمدۃ الفقہ،ج3،ص269۔حاشیہ طحاوی ،ص362۔روزے کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا،ص160. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200154
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں